2 جون 2012 - 19:30

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی تئیسویں برسی آج نہایت ہی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس موقع پر برسی کا سب سے بڑا پروگرام امام خمینی کے مزار پر منعقد ہوا جس میں آپ لاکھوں چاہنے والوں نے شرکت کی۔ آج کے اس عظیم الشان اجتماع میں ملکی مہمانوں کے علاوہ امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کے سینکڑوں غیر ملکی عیقدت مند بھی شریک تھے۔

ابنا: اس موقع پر رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمي سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں فرمایا ہے کہ گذشتہ تینتیس برسوں میں ملت ایران نے علم و سائنس میں پیشرفت، سیاسی فوجی، سکیوریٹی اور اقتصادی میدانوں میں چیلنجوں پر غلبہ حاصل کرکے اسلامی نظام کو ختم کرنے میں عالمی سامراج کو ناکام بنادیا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ آج ملت ایران سیاسی استحکام اور دنیا کے حالات پراثر انداز ہونے نیز علاقائي اور عالمی سطح پر اپنی موجودگي کے لحاظ سے انقلاب کے ابتدائي برسوں کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مغرب کی پابندیوں سے ترقی کے لئے ملت ایران کو سب سے اچھے مواقع ملے ہیں۔ آپ نے تاکید فرمائي کہ ترقی کا سفر بلاوقفہ جاری رہنا چاہیے اور ملت ایران بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کو جان لینا چاہیے کہ اگر ترقی کے سفر کا سلسلہ رک گيا تو اسلامی ایران دوبارہ ذلت کی کھائي میں گرجائے گا۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کی ترقی کا ایک سبب جمہوریت ہے اور انتخابات، ملت ایران کی سربلندی اور بیدار ہونے کا ثبوت ہیں۔

حضرت آیت اللہ العظمي خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کو ایٹمی خطرہ بنا کر پیش کرنے کا مغربی ممالک کا ھدف رائے عامہ کو فریب دینا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ مغربی ممالک کو ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے کسی طرح کا خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ وہ اجتماعی، سیاسی، اقتصادی، اور علمی سائنسی میدانوں میں ملت ایران کی پیشرفت سے ہراساں ہیں کیونکہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملت ایران نے بڑی طاقتوں سے مدد لئے بغیر حقیقی معنوں میں ترقی کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکہ اقوام عالم کو یہ جتلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ امریکہ کی مدد کے بغیر ترقی نہیں کرسکتیں لیکن ملت ایران نے گذشتہ تین دہائيوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس نے امریکہ کی مدد کے بغیر بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کرکے ہمہ گير ترقی کی ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کی موجودہ تیز ترقی کو امام خمینی قدس سرہ کی تعلیمات اور تحریک کا مرہون منت قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ ملت ایران نے بانی اسلامی جمہوریہ ایران کی تعلیمات پر چل کر قومی تشخص حاصل کرنے کے لئے اپنی توانائيوں کو پہچانا اور آج آپ ہی کی میراث ہے کہ ساری دنیا کے سامنے ایران طاقتور اور ترقی یافتہ ہے۔

آپ نے امام خمینی قدس سرہ کو عالمی اسلامی بیداری کا بانی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی رح کا ایک بنیادی کارنامہ ملت ایران کو قومی لحاظ سے سربلندی عطا کرنا تھا اور ملت ایران نے اپنی اس عظیم تحریک کے سہارے اپنی ترقی اور پیشرفت کی راہ میں موجود ساری رکاوٹیں ہٹادیں اور خطرات کا مقابلہ کیا۔

ولی امر مسلمین نے فرمایا کہ قومی عزت قوموں کے مفادات کا تحفظ کرکے انہیں دشمنوں کے غلبے میں جانے سے روکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امام خمینی رح نے جب پورے عزم و استحکام کے ساتھ ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو ملت ایران کی سربلندی اور پیشرفت کی راہ میں موجود تمام رکاوٹوں کوہٹانے میں کامیاب ہوگئے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل ایران سیاسی لحاظ سے گوشہ گیر تھا اور عالمی سطح پر کسی طرح کے کردار کا حامل نہیں تھا اسی طرح داخلی سطح پر بھی بیرونی تسلط کے سامنے جھکا ہوا تھااور سامراجی طاقتیں ایران کی اس کمزوری سے غلط فائدہ اٹھا کر ایران کے ذخائر کو لوٹ رہی تھیں، حتی حکمران طبقہ داخلی حالات کو سدھارنے اور ارضی سالمیت کا تحفظ کرنے میں کسی طرح کے ارادے اور اختیار کا حامل نہیں تھا لیکن ملت ایران نے امام خمینی رح کی پیروی کرتے ہوئے اس لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ کردیا اور اپنے ملک کو سربلندی عطا کی۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کی تیزرفتارترقی کو روکنے کے لئے صیہونی حکومت کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے بعض حکام نے اس بات کا ا عتراف کرلیا ہے کہ ایران ایک طاقتور اور عالمی سطح پر بااثر ملک ہے جو اپنی عزت اور پائداری سے علاقے اور عالمی مسائل پر اثرانداز ہوتا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران میں جگہ جگہ ترقی اور آباد کاری کی جو کوششیں کی جارہی ہیں، ایرانی ماہرین کے ہاتھوں پیچیدہ ترین صنعتی اور انجینیرنگ کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں، ان سے اسلامی جمہوریہ ایران ترقی یافتہ ملکوں کی مدد سے بے نیاز ہوچکا ہے اور یہ ٹکنالوجی مغرب کی اجارہ داری سے خارج ہوچکی ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری اور امریکہ کے حمایت یافتہ ڈکٹیٹروں کےخلاف علاقائي قوموں کی تحریکوں کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان اقوام کو ا چاہیے کہ وہ اپنی ان تحریکوں کو اغوا کرنے کی مغربی کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ۔ .......

/169